الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عمل کثیر کی تفصیل

سوال

نماز کے کسی رکن میں تین مرتبہ کھجلانا نماز کے لئے مفسد ہے؟ آج کل ایک عالم اپنے وعظوں میں اکثر بیان کرتے رہتے ہیں کہ ایسا کرنے سے نماز نہیں ہوتی ہے اور حوالہ فتاوی عالمگیری کا دیتے ہیں غالبا اس کو عمل کثیر جان کر مذکورہ فتوی دیا جاتا ہے حالاں کہ عمل کثیر کے متعلق کئی قول ہیں۔ تین قول فتاوی عالمگیری میں بھی ہیں پس معلوم ہوا کہ یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے اس لئے حکم لگانے میں احتیاط ضروری ہے نماز کی جس قدر تاکید ہے اسی قدر شریعت نے رخصتیں بھی دی ہیں، سوضرورت کے تحت جسم کھجلانے کی اجازت ہونی چاہئے جب کہ عرب کے موسم پانی کی…

جواب

عمل کثیر مفسد صلوٰۃ ہے اس کی تفسیر میں پانچ قول ہیں، کبیری شرح منیۃ المصلی ص ۴۱۸ میں تفصیل مذکور ہے۔ الدر المختار ص ۴۱۹ میں پانچ اقوال نقل کئے ہیں فيه اقوال خمسة اصحها مالا يشك بسببه الناظر من بعيد في فاعله انه ليس فيها اه بدائع، زيلعي، محيط، قاضی خاں، خلاصہ سے اسی قول کی ترجیح، تحسین تصویب نقل کی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو