محاذاة
سوال
اس عورت کی بابت کیا حکم ہے جس کی عمر تقریباً ۴۵ یا ۵۰ سال ہے وہ ہر وقت مسجد میں باجماعت نماز کو آتی ہے کبھی پیچھے تنہا کھڑی ہوتی ہے کبھی مردوں کے ساتھ بائیں طرف ہاتھ دو ہاتھ فاصلہ پر کھڑی ہوتی ہے کیا شرعاً جائز ہے یا کیا صورت کرنی چاہئے؟
جواب
الفتوى في زماننا على انهن لا يخرجن وان كن عجائز الى الجماعات لا في الليل ولا في النهار لغلبة الفتنة والفساد وقرب يوم المعاد اس سے معلوم ہوا کہ عورت کو جماعت کی شرکت کے لئے مسجد میں آنا منع ہے یہ حکم تو مسجد میں آنے کے متعلق ہے نماز کا حکم یہ ہے کہ اگر امام نے عورت کی امامت کی نیت نہیں کی تو عورت کی نماز صحیح نہیں ہوئی مردوں کی صحیح ہو گئی اگر عورت کی امامت کی نیت کی ہے اور…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔