الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

معمولی ہنسی سے نماز فاسد ہو گئی وضو نہیں ٹوٹا

سوال

جمعۃ الوداع کے دن زید کو جمعہ کی فرض نماز سے پہلے چار رکعت سنت پڑھتے وقت کچھ ایسی بات ذہن میں آگئی کہ اس کو بہت ہی ہلکی سی ہنسی آگئی کہ اس کے کانوں تک ہی آواز پہونچی۔ لیکن اتنی آواز ہنسی میں نہیں نکلی کہ بغل میں بیٹھا ہوا شخص سن سکے۔ تو کیا ایسا کرنے سے وضوٹوٹ جائیگا اور بغیر وضو کے نماز نہیں ہوتی اور ایک شخص سے اس نے یہ بھی سنا تھا کہ جو بغیر وضو کے نماز پڑھے وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ تو کیا وہ اسلام سے خارج ہو گیا اور اس نے جتنے بھی پہلے نیکی کے کام کئے وہ سب ضائع ہو گئے۔

جواب

جس نماز میں اس کو اتنی ہنسی آئی کہ خود اپنی آواز سن لی اور بغل والے آدمی نے نہیں سنی تو اس سے اسکی وہ نماز ٹوٹ گئی مگر وضو پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑا ہے لہذا اس کے بعد نماز جمعۃ الوداع اور بعد والی سنت ونوافل سب درست ہو گئی۔ نہ اسلام سے خارج ہوا اور نہ اس نماز کا اعادہ لازم ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو