جس جس کی امامت مکروہ ہے اس کی کراہت کیوجہ کیا ہے!
جواب
یہ اعمی اگر مسائل طہارت میں محتاط ہو اور افضل ہو تو اس کی امامت مکروہ نہیں، حضرت ابن ام مکتوم کو حضور اکرم ﷺ نے اپنے سفر کے وقت مدینہ طیبہ میں امام تجویز فرمایا، فاسق اور مبتدع اگر عالم اور قاری ہو تو اس کی امامت پھر بھی مکروہ ہو گی، عبد، اعرابی، ولد الزنا کے متعلق دو قول ہیں ایک قول میں کراہت ختم ہو جائے گی دوسرے قول میں باقی رہے گی۔ پہلا قول قوی معلوم ہوتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔