اگر کوئی میرا گلا گھونٹ کر مار دے کہنے والے کی امامت
سوال
جس امام کو یہ کہا گیا کہ دو حجرے ہیں، ایک میں جو سامان مسجد کا ہے اس کو رکھ لو، وہ یہ جواب دے دے کہ جو کوئی آکر مجھ کو گلا گھونٹ کر مار گئے تو اس کا ذمہ دار کون ہے اس نے اللہ کی ذمہ داری ختم کر دی اور انسان کی ذمہ داری طلب کرے وہ شخص کون ہوتا ہے خواہ امام ہو یا عام مسلمان اس کا کیا حکم ہے؟
جواب
یہ انتظام اور تدبیر کی بات ہے اللہ کی ذمہ داری ختم کرنا نہیں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔