مسجد میں چماروں کو تعویذ دینا!
سوال
ہماری مسجد میں ایک امام صاحب نے ایک شخص کو جس کے دو بیویاں تھیں تعویذ دے کر ایک بیوی کو طلاق دلا دی، نیز چماروں کو مسجد میں تعویز دیتے ہیں جس سے مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہے، امام کے والد اور چند لوگ انہیں وجوہات کی بناء پر ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے ہیں، کیا ایسے امام کے پیچھے نماز جائز ہے؟
جواب
بغیر شرعی ثبوت کے یہ کہنا کہ فلاں شخص نے تعویذ کے ذریعہ طلاق دے دی نا جائز اور گناہ ہے جس طرح کہ شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی کرادینا اور بلا وجہ شرعی طلاق دلوا دینا گناہ ہے۔ پس اگر مقتدیوں نے امام پر بہتان لگایا ہے تو وہ توبہ کریں اور معافی مانگیں، آئندہ احتیاط رکھیں، مسجد میں ایسے شخص کو نہ آنے دیں جس سے مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہو، تعویذ کسی اور جگہ بیٹھ کر دیں، لوگوں میں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔