دارالحرب کی تفصیلی بحث اور حالت سود کا حکم
سوال
ایک شخص سود کو حلال سمجھتا ہے، اور لوگوں کو ترغیب دیتا ہے تو کیا سود لینا جائز ہے، جواز میں شخصی و مکانی خصوصیت کا اعتبار کیا گیا ہے یا نہیں، کاروبار کیسا ہے کیا یہ مطلقاً ہر لحاظ سے دارالحرب ہے اگر ہے تو کیوں اور اگر نہیں تو تستحل سود کا کیا حکم ہے، پھر یہ اعتقاد حلت کے بعد ترغیب کرنے والا اور عام طور سے ترویج دینے والا کیسا ہے، بالفرض ہندوستان میں سود حلال بھی ہو تو کیا عوام قوم کے عقائد و خیالات کی خرابی و تباہی کو ملحوظ رکھتے ہوئے بھی وہی حکم رہے گا۔ بینوا وتوجروا۔
جواب
سود کی حرمت نص قطعی سے ثابت ہے ”احل الله البيع وحرم الربوا“ (۱) جو شخص سود سے احتراز نہ کرے اس کے متعلق ارشاد ہے ” فان لم تفعلوا فأذنوا بحرب من الله ورسوله.“ حدیث میں سود کھانے والے پر لعنت وارد ہوئی ہے،”عن جابر بن عبدالله قال لعن رسو ل الله صلى الله عليه وسلم اكل الربوا وموكله“ اھ (۴) (مشکوۃ شریف ص ۲۴۴)۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔