مسلم بینک کا قیام اور اس کی آمدنی
سوال
(۱) یہاں پر مسلم تاجر حضرات صرف مسلمانوں ہی سے لین دین کی غرض سے اپنا خاص مسلم بینک قائم کرنا چاہتے ہیں، اور جس طرح مسلم فنڈ کے اندر د یو بند وغیرہ میں ہر ایک سور و پیہ پر ایک فارم کی قیمت مقرر ہے، کہ روپیہ لینے والے کو پہلے فارم قیمت خریدنا پڑتا ہے، تو اس طرح پر یہاں مسلم بینک میں اگر فارم کی قیمت متعین کی جائے، تو یہ کیسا ہے؟ مسلم بینک میں صرف ضمانت پر بلا سو در و پیہ دیا جائیگا۔ (۲) مسلم بینک کے حصہ دار اس کی آمدنی کو اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں یا اس کی آمدنی کو صرف دین اور مذہبی کاموں میں خرچ کر دیا جائے؟
جواب
(۱) ضمانت کے بغیر بھی بلا سود قرض لینا درست ہے ایک روپیہ کا فارم خریدنا سود میں داخل نہیں۔ (۲) آمدنی کی کیا صورت ہے؟ جبکہ وہاں سود نہیں لیا جاتا، جتنا روپیہ وہاں سے کسی نے قرض لیا ہے، اتنا ہی واپس کریگا، اور ایک روپیہ کا فارم ملتا ہے، بلکہ مزید کچھ خرچ کرنا ہوگا، پھر آمدنی کی کیا صورت ہے جس کے استعمال کرنے کا سوال ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔