سودی قرض سے تجارت کر کے منافع کمانا
سوال
خالد جو بفضلہ تعالیٰ عالم دین ہے، اور خدمت دین (تدریس) کے سلسلہ میں ایک ایسے شہر میں رہتا ہے جہاں کی مسلم اکثریت تجارت پیشہ ہے، ان میں اکثریت سودی کاروبار میں ملوث ہے، حتی کہ بعض ایسے بھی سنے گئے ہیں کہ انہوں نے قرض ہی سے تجارت کی ابتداء کی اور بعض ایسے بھی ہیں کہ ابتداء تو حلال پیسوں سے کی لیکن سرمایہ میں کمی کے وقت سودی قرض لیتے ہیں، اور بہت ہی کم صحیح طریقہ سے تجارت کر رہے ہیں، ان جیسے (مذکورہ)
جواب
جو روپیہ بطریق سود حاصل کیا گیا ہو اس کا استعمال کرنا خالد وغیرہ کسی کو بھی درست نہیں بلکہ جس سے وہ سود لیا گیا ہے اس کو واپسی کیا جائے، یا بلانیت ثواب غرباء کو صدقہ کر دیا جائے، اگر کسی نے کچھ روپیہ سود پر قرض لیا تو وہ اس کی وجہ سے گنہگار ہوا لیکن اس تجارت کی ہے وہ درست ہے اور جو کچھ اس کی آمدنی ہو شرعی قواعد میں رہ کر وہ بھی درست ہے، ایسی آمدنی سے خالد کو ہدیہ دیا جائے یا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔