منافعه قرض
سوال
زید نے بکر کو مبلغ چار ہزار روپے تجارت کے لئے دیا اور کہا کہ اس روپے میں خواہ تم کو نفع ہو یا خسارہ ہو، بحر حال تم مجھے چالیس روپے ماہوار بطور نفع کے دیتے رہو باقی جتنا بھی نفع ہو وہ سب تمہارا اور میری رقم باقی رہے گی، نقصان جو ہو وہ سب تم کو برداشت کرنا پڑے گا، ایسی صورت میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے، کیا اس شرط کے ساتھ یہ معاملہ جائز ہے؟
جواب
اس طرح معاملہ کرنا شرعاً جائز نہیں، یہ سود ہے، اور سود کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے، ” احل الله البيع وحرم الربو الاية“۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔