الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دارالاسلام اور دارالحرب کی تحقیق

سوال

ہندوستان دارالحرب ہے یا نہیں، اور بر تقدیر دارالحرب بینک سے سود جائز ہے کہ نہیں؟ علماء دیو بند اس امر میں مختلف ہیں جناب کیا فرماتے ہیں، حضرت گنگوہی سے بعض جواز بیان کرتے ہیں، مولانا سہول صاحب مفتی مدرسہ دیو بند بڑے زور سے نہ صرف بینک بلکہ عام کفار سے جائز فرماتے ہیں اور بھی بعض علماء مگر حضرت تھانوی قائل حرمت ہیں مفصل جواب معہ ادلہ مرحمت ہو؟

جواب

ہندوستان کے متعلق اختلاف ہے اکثر علماء اس کو دارالحرب فرماتے ہیں اور بعض اس کے منکر ہیں، فتاوی رشیدیہ میں مختلف فتاوی موجود ہیں، بعض عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ دارالحرب ہونے کو ترجیح فرماتے ہیں، بعض اس کی عدم تحقیق کا اظہار فرماتے ہیں مولانا عبد الحی صاحب اپنے فتاوی، ۲۲۶ ر ج ۲ میں تحریر فرماتے ہیں بلاد ہند جو قبضہ نصاری میں ہیں دارالحرب نہیں ہیں، ان میں کافر سے سود لینا جائز…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو