الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قرض پر منافع سود ہے

سوال

زید نے بکر سے ایک ہزار روپیہ لیا اور کہا کہ میں چالیس روپیہ ماہوار منافع سمجھ کر دیتا رہوں گا، جب تک کہ اصل رقم نہ ادا کر دوں، زید حسب وعدہ چالیس روپیہ ماہوار منافع کا دیتا رہا، ایک سال گزرنے کے بعد سوئے اتفاق سے زید کا کاروبار میں ہزاروں روپیہ کا گھاٹا ہو گیا، ذاتی رقم اور بکر کا ایک ہزار روپیہ سب خسارے میں چلا گیا، اسی پر بس نہیں بلکہ ہزاروں کا مقروض بھی ہو گیا، پھر بھی زید کسی نہ کسی طرح وعدے کے مطابق بکر کو چالیس روپیہ ماہوار دیتا رہا، اور کبھی کبھی یکمشت سود دو سو روپیہ بھی دیئے : (۱)

جواب

(۱/۲/۳) قرض پر اس طرح رقم دینے کا معاہدہ کرنا اور رقم دینا جائز نہیں، یہ یقیناً سود ہے، اس کا نام منافع رکھنے سے بھی یہ سود ہی ہے، کتب فقہ میں ہے ” کل قرض جر نفعاً حرام در مختار، یعنی جس قرض سے نفع ملے وہ حرام ہے (۴) اس کو اصل قرض کی ادائیگی میں محسوب کرلیا جائے، تو سود سے چھٹکارہ ہو جائے گا۔ (۵)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو