الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سود سے متعلق ایک نہایت اہم تفصیلی بحث و تحقیق

سوال

ہندوستان میں موجودہ حالات میں مختلف کاروبار کے لئے حکومت سے مسلمانوں کو سود پر روپیہ لینا یا دینا کیسا ہے؟ (الف) نیز سود پر روپیہ لینے میں ضرورت مند اور غیر ضرورت مند دونوں کا ایک حکم ہے، یا فرق ہے اگر فرق ہو تو براہ کرم اس کی وضاحت فرمائیں، کہ کس قدر ضرورت اور اضطرار عذر بن سکتا ہے؟ (ب) سود کی حرمت موبد و مطلق ہے یا موقت و مقید ہے نیز سود کی حرمت جن حالات میں نازل ہوئی وہ کیسے تھے، مسلمانوں کی اقتصادی و معاشرتی حالات کیا اس وقت موجودہ مسلمانوں سے زیادہ بہتر تھی۔ (د)

جواب

(الف) سود کی حرمت لینے والے اور سود دینے والے دونوں پر حدیث شریف میں لعنت آئی ہے بلکہ سود کا رقعہ لکھنے والے اور گواہی دینے والے کو بھی لعنت میں شریک کیا گیا ہے جو شخص اپنی ضرورت کی وجہ سے مجبور ہے وہ اپنی مجبوری اور اس مذکورہ لعنت دونوں کو وزن کرلے پھر اگر ضرورت کا وزن زیادہ ہو تو وہ اپنی مجبوری کی حد تک مجبور ہوگا۔ (ب)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو