ہندوستان میں سود کا حکم
سوال
ہمارے علاقہ میں ایک عالم صاحب ہیں جو دیو بند کے پڑھے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگرد ہیں، کہتے ہیں کہ ہندوستان دارالحرب ہے، لہذا یہاں مسلمان ہندوؤں سے سودی لین دین کر سکتا ہے، یعنی سود لے سکتا ہے کیا یہ صحیح ہے
جواب
مجھے تو یہ معلوم ہے کہ حضرت مولانا انور شاہ صاحب ایک مجلس میں موجود تھے، یہ مسئلہ وہاں زیر گفتگو آیا، دیگر اہل علم حضرات اس پر گفتگو فرمارہے تھے، حضرت شاہ صاحب سے عرض کیا گیا کہ آپ فرمائیں تو یہ جواب دیا تھا۔ جس کو جہنم میں جانا ہو راستہ سیدھا ہے، مگر ہماری گردنوں کو پل بنا کر مت جاؤ قرآن کریم میں صاف صاف مذکور ہے ”احل الله البيع وحرم الربو“، حرمت ربو سے قبل جو لوگ اہل حرب سے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔