الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

Вопрос по поводу приведённого выше ответа: султан как условие джумы, асар Али и определение города

سوال

بر جواب مذکورہ بالا سوال: گزارش یہ ہے کہ فتوی مذکورہ سے معلوم ہوا کہ صحت جمعہ کے شرائط میں مصر و سلطان ہے اس پر عام طور سے جہلاء کو بھی اعتراض ہے کہ اگر سلطان صحت جمعہ کے لئے شرط ہے تو پھر ہندوستان میں اور ان مواضع میں جمعہ کیوں کر صحیح ہے جہاں سلطان نہیں ہے حالانکہ تمام علمائے احناف کا عمل ہے کہ وہ بلاد ہند میں بلا تکلف قیام جمعہ فرماتے ہیں باوجود یکہ سلطان شرط ہے اور وہ مفقود ہے تو جمعہ کیوں کر صحیح ہے نیز یہ کہ اثر حضرت علیؓ پر عامی پڑھے لکھے کو یہ اشکال ہوتا ہے کہ اول تو یہ موقوف ہے، دوسرے یہ کہ اس میں مصر…

جواب

خلاصہ سوال چند امور ہیں۔ اول صحت جمعہ کیلئے سلطان شرط ہے وہ یہاں مفقود ہے پھر جمعہ کیے صحیح ہوتا ہے دوم عدم جواز جمعہ پر جو دلیل ہے وہ اثر ہے حضرت علی کا حدیث مرفوع نہیں۔ سوم مصر کی تعریف میں احناف کا اختلاف ہے۔ صحیح تعریف کیا ہے مصر کے ساتھ جامع کی قید ہے، اس سے کیا فائدہ۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو