الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تین ہزار کی آبادی میں جمعہ

سوال

ہماری بستی موضع جلال پور کی آبادی تین ہزار سے کچھ زائد ہے۔ اور نوعیت بستی اس طرح پر ہے کہ اسی فیصد مکانات پختہ اور اکثر گلیاں نیم پختہ ہیں۔ اور دوکانیں صرف کھدر کپڑے کی ہیں جن پر کافی کپڑا رہتا ہے۔ اور چھوٹی چھوٹی پرچون کی فصل پر دس گیارہ دوکانیں ہیں۔ ان میں سے چار پانچ دوکانیں تو مستقل رہتی ہیں اور معمولی ضرورت پوری ہو جاتی ہے۔ باقی جو دوکانیں فصلی ہیں وہ صرف فصل کے موقع پر چلتی ہیں ورنہ بند ہو جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ تین کپڑا سلائی کی اور ایک سائیکل مرمت کی دوکان ہے۔

جواب

کسی ایسے عالم کو بلا کر بستی کا معائنہ کرادیں جس کو فقہ اور فتوی میں تجربہ اور بصیرت ہو پھر جو کچھ وہ شرعی حکم بتائے اس پر عمل کریں۔ اتنا تو بالاتفاق احناف کے نزدیک مسلم ہے کہ قریۂ صغیرہ میں جمعہ درست نہیں۔ لیکن قریۂ صغیرہ اور کبیرہ کی علامات اور تعین میں عرف کے بدلنے سے فرق پڑتا رہتا ہے۔اس لئے اختلاف ہو کر الجھن پیدا ہوتی ہے۔ اس کے دفع کرنے کی صورت تحریر کر دی گئی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو