الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قریہ میں جمعہ اور قریہ کی تعریف

سوال

جمعہ فی القریٰ جائز ہے یا نہیں۔ قریہ اور شہر کی تعریف مفصل تحریر فرمائیں۔ (۲) ایک قریہ جس کی آبادی تقریباً پندرہ سو ہے۔ وہ قریہ ہے یا شہر؟ زید اور عمر اس بارے میں مختلف ہیں۔ زید کا کہنا ہے کہ ہم اس میں تقریباً سو سال سے جمعہ پڑھتے چلے آرہے ہیں۔ نیز استدلال میں حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کی جانب جواز کو منسوب کرتا ہے۔ عمر کا کہنا ہے کہ اس میں جمعہ جائز نہیں ہے۔ کون حق پر ہے؟ (۳) اگر جمعہ کو روکا گیا تو سخت فتنہ کا اندیشہ ہے کہ لوگ نماز پنجگانہ ہی چھوڑ دیں گے اور ارتداد اختیار کر لیں گے۔

جواب

قریۂ صغیرہ میں جمعہ جائز نہیں، قریہ کبیرہ میں جائز ہے لیے قریہ اور شہر کی تعریف میں عرف کے اعتبار سے تغیر ہوتا رہتا ہے۔ اس لئے کہ ماہیت کی تعریف تو مقصود نہیں ہے۔ آثار و علامات کے اعتبار سے تعریف کی جاتی ہے جس سے دونوں میں فی الجملہ امتیاز قائم ہو جائے۔ آثار و علامات کا تغیر بدیہی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو