الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قریۂ صغیرہ وکبیرہ

سوال

میں تین سال پہلے دار العلوم ہی کا ایک طالب علم تھا درس بخاری شریف کی خدمت کے سلسلے میں تین سال سے یہاں مقیم ہوں، یہاں کے مقامات میں سے جو باقاعدہ شہر یا قصبہ ہیں وہ تو الگ ہیں باقی گاؤں ہیں ان گاؤں میں لوگوں نے (پنجگانہ کی حیثیت سے کہئے یا جامع مسجد کی حیثیت سے) ایک دو مسجد بنا رکھی ہے ان میں جمعہ کی نماز بھی پڑھی جاتی ہے، مسلمان آبادی میں عام طور پر حنفی مذہب کے ہیں، گاؤں بھی ایسا نہیں کہ ضروریات کے تمام سامان یہاں مل جائے کیونکہ نسبتاً کچھ لوگ بڑے کاموں کے لئے ٹاؤن چلے جاتے ہیں اور روزمرہ کی ضروریات کے لئے یہ…

جواب

اس بات پر تو سب کا اجماع ہے کہ جمعہ کا حال پنجگانہ نماز کی طرح نہیں، شہر ہو یا گاؤں یا آبادی ہو یا جنگل حضر ہو یا سفر زمین ہو یا سمندر کی سطح انفراد ہو یا جماعت۔ ادا ہو یا قضا۔ ہر طرح پڑھنے کی اجازت ہو جائے، كما صرح به الامام ابوبکر الجصاص في احكام القرآن لا محالہ جمعہ کے لئے کچھ شرائط ہیں ان شرائط میں سے ایک اہم شرط یہ بھی ہے کہ جمعہ چھوٹی بستی (قریۂ صغیرہ)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو