گاؤں میں جمعہ
سوال
زید کہتا ہے کہ قریہ میں نماز جمعہ جائز نہیں ہے اس لئے کہ امام اعظمؒ نے قرآن شریف وحدیث شریف و آثار صحابہ رضی اللہ عنہم نے ثابت کیا ہے اور اس پر علماء دیوبند کا عمل ہے؟ بکر کہتا ہے کہ قریہ میں نماز جمعہ کو نا جائز کہنے والا اور کرنے والا راندہ درگاہ مثل فرعون و قارون کے بلکہ وہ شخص ملعون و مردود ہے جیسے ابی بن خلف رئیس المنافقین یہ تمام الفاظ بکر نے بکے ہیں۔
جواب
(۱) جو شخص گاؤں میں جمعہ کی فرضیت کا قائل ہے اس کے ذمہ دلیل ہے منکر کے ذمہ دلیل نہیں لان البينة على المدعى تاہم زید کے قول کا منشاء امور ذیل ہیں۔ ۱ - عن النبي ﷺ أَنَّهُ قَالَ لَا جُمُعَةَ وَلَا تَشْرِيقَ إِلَّا فِي مِصْرٍ جَامِعِ اه كتاب الآثار لابي يوسف ص ۶۰ یہ حدیث مرفوعاً و موقوفا دونوں طرح مروی ہے چنانچہ شیخ ابن ہمام نے فتح القدیر ص ۴۰۹ / ج ۱ میں ابن ابی شیبہ اور عبدالرزاق…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔