الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پینتیس سو کی آبادی میں جمعہ

سوال

ایک قریہ ہے جس کی آبادی ۳۵ سو ہے اور بیس تیس دوکانیں ہیں جن سے ضروریات کی اشیاء مہیا ہوتی ہیں قریہ مذکورہ میں سترہ مساجد ہیں لیکن یہ بھی اہل قریہ کے لئے نا کافی ہیں۔ یعنی اگر سب لوگ نماز پڑھیں تو ان مساجد میں نہیں سما سکتے۔ ایسے قریہ کے بارے میں مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں آیا جمعہ جائز ہے یا نہیں اور اگر جائز ہے تو حدیث مندرجہ ذیل کا کیا مطلب ہے۔ حدیث لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا اضحى الا في مصر جامع اور مصر جامع کی کیا تعریف ہے۔

جواب

دوکانوں کی تعداد مساجد کی کثرت، آبادی کے شمار کے لحاظ سے یہ بڑی بستی ہے عامہ ایسی بستی میں روزمرہ کی حوائج پوری ہو جاتی ہیں اور کسی دوسری جگہ جانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ عرف میں اس کو قریہ کبیرہ کہتے ہیں جو کہ قصبہ کے حکم میں ہے وہاں جمعہ جائز ہے۔ اور حدیث شریف میں جو ممانعت مذکور ہے اس سے قریہ صغیرہ مراد ہے ويشترط لصحتها الخ۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو