الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دیہات میں جمعہ

سوال

زید کہتا ہے کہ دیہات میں جمعہ جائز نہیں، اور خالد کہتا ہے کہ پڑھنا چاہئے کیونکہ نہ پڑھنے سے اور تمام لوگ اور نماز سے بھی غفلت کرتے ہیں اور نماز چھوڑ دیتے ہیں۔ جس کا واحد سبب ترک جمعہ ہے تو یہ قول خالد دیہات میں جواز جمعہ کا باعث بن سکتا ہے یا نہیں، نیز شرائط جمعہ کیا ہیں، اور اگر جمعہ بند کرا دیں، تو بند کرا دینے کی وجہ سے لوگوں نے نماز ترک کردی، تو بند کرانے والا گنہگار ہوگا یا نہیں۔

جواب

زید کا قول عند الاحناف صحیح ودرست ہے۔ خالد کا قول صحیح نہیں۔ اگر دیہات میں لوگ نماز نہیں پڑھتے تو ان کو نمازی بنانے کے لئے دوسری تدابیر اختیار کی جائیں مثلاً وعظ تبلیغ سے اگر کام نہ چلے تو انجمنیں قائم کی جائیں اور اس میں تارک صلوٰۃ کے لئے مختلف سزائیں مقرر کر دی جائیں۔ مثلاً تارک صلوۃ کے یہاں کوئی شادی نہیں کرے گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو