الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

Ответ на возражение против «Такъвият аль-иман»

سوال

چه می فرمایند علمائے دین درین مسئلہ کہ مبتدعین کتاب تقویۃ الایمان کی اس عبارت پر اعتراض شدید کرتے ہیں، وہو کذا یعنی کل مخلوق کا مرتبہ عنداللہ ایسا ہے کہ جیسا کہ ایک چمار کا عندالملک یہ لفظ کل سوا ایجاب کلی کا ہے، لہٰذا استفسار ہے کہ یہ کل باعتبار ایجاب کلی ہونے کے تمامی افراد انبیاء وغیر ہم کو شامل ہے یا نہیں اگر انبیاء علیہم السلام اس سے مستثنیٰ ہیں تو وہ کس طرح اور سلب جزئی کا ہونا ایجاب کلی کے منافی ہے، لہذا یہ کل کا لانا بیکار اور لغو ہوگا، لہذا اس کا جواب محققانه اور مفصل و مدلل از آیات قرآنی و احادیث روحانی…

جواب

ملک بادشاہ کو کہتے ہیں ظاہر ہے کہ بادشاہ اور تمام رعایا ایک نوع کے افراد ہیں،کلی طبعی تمام میں مشترک ہے، نیز یہ اشتراک بطریق تواطؤ ہے، نہ کہ بطریق تشکک، ہیولی اور صورت جسمیہ میں اتحاد ہے، دونوں کے اجزائے خارجیہ اور اجزاء ذہنیہ داخل فی الماهية قطعاً متحد ہیں، فرق اگر ہے تو عوارض خارجیہ اور تشخصات کا ہے، یہ بھی کچھ بعید نہیں ہے کہ کوئی امر مدار افضلیت رعایا کے کسی فرد میں اعلیٰ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو