Ширк ли избегать вредной пищи?
سوال
تقویۃ الایمان میں ایک جگہ یوں لکھا ہے کہ یوں نہ کہو کہ فلاں چیز کھائی یا پی تھی، نقصان کر دیا اور یہ مرض ہو گیا، ایسا کہنا شرک ہے، نفع و نقصان سب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے، مگر زید کا سیکڑوں مرتبہ کا تجربہ ہے کہ ترشی دار کوئی بھی چیز کھائی تو آنکھوں کے پپوٹوں میں سوزش شروع ہو جاتی ہے، اور آنکھ مثل دکھنے کے ہوجاتی ہے، اور جب شلغم، دال مسور اور ارہر کھاتا ہے تو فوراً فم معدہ پر جلن ہو جاتی ہے، اور جب مولی کھاتا ہے، تو گردہ میں بھاری پن ہو جاتا ہے، زید جب ان مرضوں کی شکایت طبیب سے کرتا ہے تو طبیب غذا کھانے کے بارے میں…
جواب
کسی چیز کی تاثیر بغیر اذن خداوندی کے اثر نہیں کر سکتی، اس لئے کوئی چیز بھی مؤثر بالذات نہیں، اگر کسی چیز کو مؤثر بالذات اعتقاد کریگا تو یہ شرک ہوگا، باذن خداوندی مؤثر ہونے سے شرک نہیں ہوگا، ترشی کھانے سے اگر آنکھوں کے پپوٹوں میں سوزش کا ہونا ترشی کے لوازم ذاتیہ سے ہوتا ہے تو جو شخص بھی کھاتا اس کو یہ تکلیف ضرور ہو جاتی ہے، دنیا بھر کھاتی ہے، اور یہ تکلیف نہیں ہوتی، اس سے معلوم…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔