الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

Обвинение мауляны Тханави в куфре

سوال

کیا مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنے کسی مرید سے نعوذ باللہ اپنے نام کا کلمہ پڑھوایا، اگر ایسا ہے تو پھر ان کے متعلق شرع کا کیا حکم ہے؟ کیا ایسی صورت میں مرید اور پیر دونوں اسلام سے خارج نہیں ہو گئے؟ کیا کتاب حفظ الایمان کی عبارت کو دیکھ کر علماء حرمین نے ان کے کافر ہونے کا فتویٰ دیا ہے، کیا کتاب حفظ الایمان میں انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے، ہم نے حفظ الایمان پڑھی لیکن اس کی عبارت اتنی سخت ہے کہ ہم لوگوں کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا، اس لئے آپ سے رجوع کیا؟

جواب

حضرت مولانا القاری الحافظ الحاج اشرف علی صاحب تھانوی حکیم الامت تھے، بہت بڑے بزرگ تھے، چشتی، قادری، نقشبندی، سہروردی نسبتوں کے جامع تھے، انہوں نے مدت دراز تک تدریس، تذکیر، تصنیف، تزکیہ کے ذریعہ دینی خدمات انجام دیں، اور بہت بڑی جاہلوں کی جماعت کو عالم بنایا فاسقوں کی جماعت کو متبع سنت اور صالح بنایا، غافلوں کی جماعت کو ذاکر بنایا صحیح راہ سے بھٹکے ہوؤں کو راہ ہدایت پر چلایا،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو