الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تلاوت و وعظ پر اجرت

سوال

زید کہتا ہے کہ وعظ کر کے اجرت لینا جائز ہے، کیونکہ اگر اجرت نہ لیں تو ہم اپنی ضروریات پوری نہیں کر سکتے، اس لئے ہم حبس وقت کی اجرت لیتے ہیں، عمر کہتا ہے کہ اگر وعظ کر کے اجرت لینا جائز ہو تو تلاوت قرآن کر کے بھی اجرت لینا جائز ہونا چاہئے، کیونکہ وعظ کرنا جیسے طاعت ہے، ایسا ہی تلاوت قرآن بھی طاعت ہے، جب وعظ کہہ کر حبس وقت کی وجہ سے اجرت لینا جائز ہے، ایسا ہی تلاوت قرآن کر کے بھی اجرت حبس وقت کی وجہ سے جائز ہونا چاہئیے؟

جواب

استیجار على الطاعات اصالة ناجائز ہے، مگر متاخرین مجتہدین نے حسب اجتہاد ضرورت شرعیہ کا لحاظ رکھتے ہوئے، بعض طاعات کو مستثنی کیا ہے، ان میں سے وعظ بھی ہے، اور وجہ جواز حبس کو قرار نہیں دیا، بلکہ ضرورت شرعیہ کو قرار دیا ہے، اگر سلسلہ وعظ بند ہو جائے، تو نقصان عظیم لازم آئے گا، کیونکہ ہر ایک کے پاس نہ اس قدر وقت ہے، نہ قدرت، کہ مدارس میں داخل ہو کر باقاعدہ علم حاصل کرے، اور نفس…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو