الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تراویح میں ختم قرآن پر اجرت

سوال

قرآت قرآن پر اجرت لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو ادلہ اربعہ سے اس کی نفی کر دیں، اور اگر ہے تو ادلہ اربعہ سے اس کا اثبات یا صرف قرآن وحدیث سے کریں، اور قراۃ قرآن کی اجرت کے عدم جواز کی تقدیر پر اس مسئلہ کا کیا جواب ہے، کہ ہمارے بنگال میں یا بنگال کے اکثر حصوں میں یہ دستور ہے کہ ہندوستان سے حفاظ آکر رمضان میں ختم ہم قرآن کر کے ہیں، چالیس، اسی روپئے لے جایا کرتے ہیں، یہاں تک کہ کلکتہ کی جامع مسجد میں مصر سے حفاظ آکر رمضان میں ایک ختم کر کے سو ڈیڑھ سو روپئے لیتے ہیں، کیا اس کے جواز کی کوئی صورت ہے؟

جواب

قرأة قرآن شریف پر اجرت لینا حرام ہے، لقوله تعالى ولا تشتروا باياتي ثمناً قليلاً. الاية۔ عن بريدة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من قرأ القرآن يتاكل به الناس جاء يوم القيامة ووجهه عظم ليس عليه لحم رواه البيهقی، قال العيني في شرح الهدايه ويمنع القارى للدنيا والأخذ والمعطى اثمان اهـ، لهذا یہ طریقہ نا جائز ہے، جواز کی صورت یہ ہے کہ مستقل امامت فرائض کی ملازمت کی جائے، کہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو