الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تعویذ، گنڈے اور وعظ پر معاوضہ

سوال

بچہ جس وقت تعلیم حاصل کر کے حافظ ہو جاتا ہے، تو وہ کوئی روزگار تو کرتا نہیں، صرف تعویذ گنڈے کرنا شروع کر دیتا ہے، کسی سے پندرہ کسی سے بیس روپیہ لیتا ہے، اور لوگوں کو بہکانا شروع کر دیتا ہے، اور کبھی وعظ کہتا ہے، تو بعد میں اپنا سوال کرتا ہے، ہم نے وعظ میں سنا ہے کہ قرآن ایک عظیم خزانہ ہے، جس میں ہر چیز موجود ہے، اور یہ لوگ اس کا نام لے کر اپنا روزگار کماتے ہیں، اس طرح کا پیسہ لینا کہاں تک جائز ہے؟

جواب

تعویذ گنڈے کا طریقہ جاننے والا اگر اس پر اجرت لے تو یہ اجرت جائز ہے، بشرطیکہ دھو کہ بازی نہ کرے، اور خلاف شرع تعویذ نہ کرے۔ وعظ کے لئے اگر ملازمت کی جائے، اور معاملہ اس طرح کر لیا جائے، مثلاً ہر نماز کے بعد۱۵/۱۰ منٹ بیان کرنا ہے، یا ہر جمعہ کو وعظ کہنا ہے، تو یہ ملازمت بھی درست ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو