طالب علم کیلئے تراویح سنانے کی اجرت
سوال
حافظ قرآن کو تراویح میں قرآن سنا کر روپیہ لینے کے جواز کی کوئی صورت ہے یا نہیں؟ مثلا اگر حافظ طالب علم ہے، اور اس کو پڑھنے کے واسطے روپیہ کما حقہ میسر نہیں آتا، اور وہ چاہتا ہے اس وسیلہ سے روپیہ مل جاوے، اور اس سے زیادہ کتابوں کی خرید ہو سکے، کیونکہ بغیر کتب کثیرہ کے علم وسیع ہونا دشوار ہے، اور دینے والا بھی بغیر مقرر کئے لوجہ اللہ دیں۔ اگر چه دارالعلوم میں استفتاء کرنا کافی تھا، مگر احتیاط کی وجہ سے جناب والا کو بھی تکلیف دی ہے۔
جواب
صورت مسئولہ میں روپیہ لینا اور دینا نا جائز ہے، لینے اور دینے والے دونوں گنہگار ہیں، اس کے جواز کی کوئی صورت نہیں، اگرچہ پہلے سے کچھ متعین نہ کیا جائے، مگر فریقین کے ذہن میں نفس اجرت پہلے مرکوز ہوتی ہے، اور عرفاً دیجاتی ہے، المعروف کالمشروط۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔