تلاوت قرآن کریم پر اجرت
سوال
ہمارے یہاں قصبہ میں اور اس علاقہ میں پڑھے لکھے لوگوں میں بھی اسی فیصد ایسے لوگ ہیں، جو قرآن کریم پڑھنا نہیں جانتے، مگر یہ عقیدہ سب کا ہے، کہ گھر میں قرآن کریم کی تلاوت خود نہ کر سکیں تو اور کسی کو بلا کر تلاوت کرائیں اور مل جل کر خیر و برکت کے لئے دعا کریں، تو باعث صلاح و فلاح ہوگا، اس لئے سال میں کم از کم ایک دن مدرسہ کے طالب علم یا گاؤں کے میاں جی اور مولوی کو دعوت کرتے ہیں، یہ لوگ دن بھر دعوت کنندہ کے مکان میں قرآن خوانی کرتے ہیں، جو میسر ہو سکتا ہے، اور شام کو دعائے خیر کر کے روانہ ہو جاتے ہیں، بوقت رخصت بہت…
جواب
قرآن پاک کی تلاوت اخلاص کے ساتھ ہو تو بہت بڑی قربت اور عبادت ہے، جو شخص تلاوت میں مشغول رہنے کی وجہ سے مستقل دعا بھی نہ کر سکتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کو دعا کرنے والوں سے زیادہ اجر دیتے ہیں، متقدمین فقہاء نے تعلیم قرآن کی اجرت کو منع لکھا ہے، اس لئے کہ ان کے زمانہ میں بیت المال سے معلمین کو وظائف دیئے جاتے تھے، وہ یکسوئی کیساتھ تعلیمی و تدریسی خدمات انجام دیا کرتے تھے، پھر جب…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔