اجرت على القراءة
سوال
عالمگیری ج ۳ ص ۵۲۶ کی اس عبارت سے جو کتاب الاجارہ میں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اجرت علی الطاعات جائز ہے، حالانکہ فقہی تصریحات اس کے بر خلاف ہیں، سو مذکورہ عبارت کو سامنے رکھ کر زیارت قبور کے وقت ایصال ثواب کر کے پیسہ لینا جائز ہوگا؟
جواب
اس مسئلہ میں صاحب السراج الوہاج اور الجوہرۃ النیرۃ سے سبقت قلم ہوا، اصل مسئلہ الاستیجار علی تعلیم القرآن کا تھا، جس میں فقہاء نے اختلاف فرمایا ہے متقدمین نے منع کیا ہے، متأخرین مجتہدین نے اجازت دی ہے غلطی اور سبقت قلم سے بجائے تعلیم القرآن کے قرآۃ القرآن لکھا گیا، علامہ شامی نے اس پر تنبیہ کی اور الاستیجار علی قرآۃ القرآن کو باطل قرار دیا ہے، اور یہ کہ اس میں کوئی اختلاف بھی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔