مہتمم صاحب کی تنخواہ ماہ رمضان میں دوگنی اور کار مفوضہ انجام نہ دینا
سوال
ایک دینی مدرسہ کے ذمہ دار (ناظم اور مہتمم) نے اپنی تنخواہیں صدر مدرس اور شیخ الحدیث سے بھی زیادہ کر رکھی ہے۔ اور مفوضہ خدمات یعنی فراہمی مالیات کے لئے صرف ماہ رمضان شریف میں تشریف لے جاتے ہیں۔ رجسٹر حاضری کے دستخط سے بھی وہ حضرات مبرا ہیں۔ مدرسہ کا پورا عملہ تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے پریشان رہتا ہے۔ چھ چھ سات سات ماہ کی تنخواہیں چڑھ جاتی ہیں۔ رمضان شریف میں گیارہ ماہ آرام کے بعد اور اپنے نجی دھندے کر کے چندہ کو جاتے ہیں تو نام نہاد شوری کے ممبروں کو حلوے انڈے کھلا کر وہ بھی مدرسہ ہی کے۔
جواب
اگر معاملہ اسطرح ہو کہ فلاں ماہ میں اتنی تنخواہ ملے گی تو اسکی گنجائش ہے لیکن جو کام سپرد ہوا ہو اسکو پورا کرنا ضروری ہے۔ کار مفوضہ انجام نہ دینا اور تنخواہ لینا جائز نہیں ارکان شوری اگر علم کے باوجود اجازت دیں تو اس سے وہ تنخواہ حلال نہیں ہو جاتی۔ البتہ جرم میں وہ بھی شریک ہو جاتے ہیں۔ اگر دنیا میں کوئی باز پرس نہ کر سکے تو قیامت میں بہر حال حساب دینا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔