سال بھر پورا ہونے پر ایک ماہ کی تنخواہ زائد دینا اور ہر چھٹی پر تنخواہ وضع کرنا
سوال
زید ایک ایسے مدرسہ میں ملازم ہے جہاں کا قانون یہ ہے کہ پورے سال میں رخصت علالت و اتفاقیہ ایک دن بھی نہیں ہے۔ بلکہ رخصت کے بجائے ایک مہینہ زائد کی تنخواہ دی جاتی ہے۔ اور حسب ضرورت ناغہ ہونے پر ایک گھنٹہ تک کی بھی تنخواہ وضع کر لی جاتی ہے۔ اب اگر زید نے ناظم یا ممبران مدرسہ کے یہاں کسی ضرورت کی بناء پر یہ درخواست پیش کی کہ مجھے بلا معاوضہ رخصت عطا کی جائے۔ اور ممبران مدرسہ نے اسکو منظور کر لیا تو از روئے شرع زید کی یہ درخواست پیش کرنا اور ممبران حضرات کا اس کو منظور کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
زید کو اپنی ضرورت کے تحت درخواست دینے میں تو کوئی اشکال ہی نہیں۔ وہ یہ بھی درخواست دے سکتا ہے کہ میرے ساتھ مزید اور بھی خصوصیات برتی جائیں۔ مگر ہر درخواست لائق قبول نہیں۔ ناظم اور ممبران کو ایسی درخواستوں کے قبول کرنے میں بہت دشواری ہوگی وجہ خصوصیت بتلانا بھی مشکل ہوگا، دوسرے ملازم درخواست دیں تو اس کو رد کرنا بھی مشکل ہوگا، قسم قسم کے الزامات عائد ہوں گے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔