زمانہ بیماری کی تنخواہ
سوال
زید کو مدرسہ اشرف العلوم برما کی طرف سے چندہ کے لئے مشرقی پاکستان بھیجا گیا۔ مگر بنگلہ دیش بننے کی وجہ سے وہ وہاں پر مقید ہو گیا اور دو سال تک مقید رہا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان دو سالوں کی زید کو مقررہ تنخواہ ملے گی یا نہیں؟ (الف) اشرف العلوم کی طرف سے زید کے گھر فی ماہ اسی روپے گذر اوقات کے واسطے دیا جاتا تھا، حسب شرع یہ اسی روپیہ قرض ہو گا یا اس کی تنخواہ میں شمار ہوگا؟ (ب) زید نے پہلے سال چار مہینے تحصیل کا کام کیا دوسرے سال وہ بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے تحصیل بھی نہ کر سکا، اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟
جواب
اگر زید کو مدرسہ نے ملازمت سے برطرف کر کے اطلاع نہیں کی اور زید نے بھی استعفاء نہیں دیا، نہ وہاں کوئی دوسری جگہ ملازمت وغیرہ کا شغل اختیار کیا بلکہ مدرسہ اشرف العلوم ہی کا ملازم اپنے کو تصور کر کے حتی الوسع کوشش میں لگارہا تو ان ایام کی اس کو تنخواہ ملے گی۔ (الف) اگر زید کی طرف سے یہ ہدایت تھی کہ میرے مکان پر اسی روپیہ یا اہلِ خانہ کی طلب ظاہر کرنے پر جس قدر وہ روپیہ طلب کریں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔