الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مہتمم مدرسہ کی تنخواہ بغیر طے کئے

سوال

مہتمم مدرسہ تمام سال اہتمام بلا تنخواہ کرتے ہیں کچھ اپنا نجی کام بھی کرتے ہیں مگر جن ایام میں تحصیل چندہ کا کام ہوتا ہے اس میں مشغول ہونے کی وجہ سے وہ اپنا نجی کاروبار نہیں کر سکتے تو ان مہینوں کی تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں مہتمم صاحب کو چاہئے کہ مجلس شوری کے ارکان کے سامنے اس چیز کو پیش کر دے کہ سال بھر میں مثلاً دو ماہ چندہ کرتا ہوں اپنا نجی کام نہیں کرتا اس لئے ان دو ماہ کے لئے میری تنخواہ تجویز کر دی جائے۔ بقیہ دس ماہ حسبہ اللہ خدمت مدرسہ انجام دوں گا کوئی معاوضہ نہیں لوں گا اگر مہتمم صاحب نے اس طرح باقاعدہ معاملہ نہ کیا تو تہمت اور اعتراض کا مظنہ ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو