بلا تنخواہ مدرسہ کی خدمت کرنا اور تعمیر مدرسہ میں قیام کرنا
سوال
نیز مهتم مدرسہ جو بلا مقررہ تنخواہ لئے ہوئے صرف عمارت میں قیام کو اپنی خدمات کا صلہ سمجھتا تھا وہ شرعی نقطۂ نظر سے گنہگار ہوگا یا نہیں؟ امید کہ جواب جلد عنایت فرمائیں گے۔
جواب
اس میں گنجائش ہے مگر مہتم کو چاہئے کہ مدرسہ کی خدمات حسبہ اللہ انجام دے اور اس قیام کو خدمات کا صلہ تصور نہ کرے بلکہ خدمات مدرسہ کے لئے مدرسہ کی ضرورت سے مدرسہ میں قیام تجویز کر دیا جائے تا کہ ہر وقت پوری نگرانی اور حفاظت میں سہولت رہے جیسا کہ بعض مساجد میں امام یا مؤذن کا قیام مسجد کے حجرہ میں تجویز ہوتا ہے کہ وہ خدمت کے صلہ میں نہیں ہوتا بلکہ خدمت کا معاوضہ مستقل ہوتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔