الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مدرس کو علیحدہ کرنے پر ایک ماہ کی تنخواہ زائد دینا

سوال

زید عربی مدرسہ میں دو سال سے ملازم تھا۔ بوقت تعطیل کلاں رمضان المبارک میں اس نے مہتمم صاحب سے کہا کہ میں چندہ کرنے سے قاصر ہوں۔ میرے بارے میں جو فیصلہ ہو آپ ظاہر کر دیجئے۔ مہتمم صاحب نے کہا کہ تم کو رمضان المبارک کے کچھ دن یہاں مدرسہ میں رہنا ہے۔ تمہارے بجائے میں جاؤں گا۔ لہذا زید مکان مذکور سے واپس آیا اور مہتمم صاحب کی واپسی تک مدرسہ میں رہا اور مہتم صاحب کی اجازت سے مکان چلا گیا۔ راستہ میں مہتمم صاحب کے کہنے پر جو کام بتلایا تھا وہ بھی انجام دیا۔

جواب

مہتمم صاحب نے جس وقت اطلاع کی ہے اس وقت تک کی تنخواہ بلا شبہ لازم ہے۔ پورے ماہ شوال کے متعلق یہ تفصیل ہے کہ اگر مدرسہ کا کوئی ضابطہ مقررہ ہے یا زید سے اس کے متعلق کوئی معاہدہ ہوا ہے (مثلاً جب دل چاہے زید ملازمت ترک کر دے اور جب دل چاہے مہتمم صاحب علیحدہ کر دیں تو اس وقت معاملہ ختم ہو جائے گا اور آئندہ کا کوئی حساب یعنی بلا کام کئے تنخواہ دینے کا حق باقی نہ رہے گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو