” مجھے تیری ضرورت نہیں، تو میکے چلی جا سے طلاق کا حکم
سوال
زید کا نکاح ہندہ سے ڈیڑھ سال ہوئے ہوا، میاں بیوی میں گھر یلو باتوں پر بحث ہو جاتی تھی، جو کچھ جھگڑے کی صورت اختیار کرتی تھی، زید سخت مزاج تھا، جلد غصہ آجاتا تھا، اور بحالت غصہ یہ الفاظ کہہ دیتا کہ ”مجھے تیری ضرورت نہیں، تو میکے چلی جا، میکہ اسی بستی اور اسی محلہ میں ہے ایک دن کسی بات پر بات ہوئی اور اسکو یہی الفاظ کہہ کر میکے میں بھیج دیتا ہے، ایک مرتبہ ہندہ کے والد نے زید کو بھی سمجھایا مگر یہی کہا کہ مجھے برداشت نہیں لڑکی کو سنبھالو مجھے ضرورت نہیں، اس قسم کے واقعات کئی مرتبہ پیش آئے، ایک دو مرتبہ اپنے سسر سے…
جواب
یہ لفظ کہ مجھے تیری ضرورت نہیں، نہ صریح طلاق کا لفظ ہے، اور نہ کنایہ کا اس سے طلاق نہیں ہوتی: ولو قال لا حاجة لي فيك ينوى الطلاق فليس بطلاق اه (فتاوى عالمگیری ص: ۳۹۳، ج: ۲) لیکن اگر بیوی کو طلاق کی نیت سے یہ کہا ہے کہ ”تو میکے چلی جا تو اس سے طلاق ہو گئی اور طلاق کی نیت سے اگر نہیں کہا تو طلاق نہیں ہوئی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔