الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تجھ پر میرے گھر کا کھانا حرام ہے، کہنے سے طلاق

سوال

زید نے اپنی منکوحہ سے کہا کہ تجھ پر میرے گھر کا کھانا حرام ہے، کسی عالم سے پوچھ لے، جس سے منکوحہ نے پردہ شروع کر دیا ہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ زید اس سے پہلے بھی ایک مرتبہ ایک طلاق دے چکا ہے، لیکن ایک صاحب کے سمجھانے سے اس کی منکوحہ نے اپنے تعلقات باقی رکھے، اب جملہ ماقبل کہ تجھ پر میرے گھر کا کھانا حرام ہے، کسی عالم سے پوچھ لے طلاق ما قبل پر دلالت کرتا ہے، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟ اگر ہوئی تو کون سی؟ اور کیا اس صورت حال کے پیش نظر کوئی ایسی صورت ہے جس سے تعلقات باقی رکھے جائیں؟

جواب

اس جملہ سے کہ تجھ پر میرے گھر کا کھانا حرام ہے کوئی طلاق نہیں ہوئی ہے نہ یہ کسی ماقبل کی طلاق پر دلالت کرتا ہے، جب کہ اس پہلی طلاق کے بعد رجعت ہو کر تعلق زوجیت باقی رہا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو