الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اب میرا تجھ سے کوئی رابطہ نہیں سے طلاق

سوال

صورت مسئولہ یہ ہے کہ زید کی شادی ہندہ سے تقریباً ڈیڑھ سال قبل ہوئی زید آزاد منش ثابت ہوا، شروع ہی سے رنجشیں شروع ہوگئیں، کچھ عرصہ قبل ہندہ اپنے میکے آئی ہوئی تھی، بغرض ملاقات زید آیا اور حسب سابق رنجش شروع ہوگئی، زید نے ہندہ کو ساتھ لے جانا چاہا، مگر ہندہ ان حالات میں جانے کو تیار نہیں ہوئی، کہ مار پٹائی تک نوبت آ گئی تھی، اس پر زید یہ کہتا ہوا واپس چلا گیا، میں یہاں سے جا رہا ہوں تو میرے لئے مرچکی میں تمہارے لئے مر چکا، اب میرا تجھ سے کوئی رابطہ نہیں رہا، ہمیشہ اپنے ماں باپ کے گھر رہ، میں تیری کوئی خبر نہیں لوں…

جواب

(۱) زید کے الفاظ اب میرا تجھ سے کوئی رابطہ نہیں رہا، ہمیشہ اپنے ماں باپ کے گھر رہ یہ کنایات طلاق ہیں، اگر طلاق کی نیت سے کہے جائیں تو طلاق بائن ہوتی ہے، ان الفاظ کے بعد صریح طلاق کا بولنا یہ قرینہ ہے، کہ یہ الفاظ طلاق کے لئے کہے گئے ہیں، لہذا ان سے ایک طلاق بائنہ واقع ہوئی، پھر صریح لفظ طلاق بولا اس میں نیت کی بھی حاجت نہیں، اس سے دوسری طلاق واقع ہوگئی وہ بھی بائن ہی ہوئی،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو