قرآن پاک کی بے ادبی کرنا اور بیوی کو میکہ پہنچا دینا
سوال
ایک شخص نے اپنی بیوی کے سامنے سے قرآن شریف پڑھتے ہوئے اٹھا کر بہت بے ادبی سے دوسری جگہ ڈالدیا اور یہ کہا کہ ایسا قرآن اور نماز پڑھنے سے کیا فائدہ سب بیکار ہے اور پھر یہ کہا تو میری اماں ہے، مجھ کو تجھ سے کوئی کام نہیں تو اپنے ماں باپ کے یہاں چلی جا اس کے بعد وہ شخص خود اپنی بیوی کو اس کے ماں باپ کے یہاں چھوڑ گیا عرصہ ایک سال کا ہوا کوئی خبر نہ لی اب اس کے واسطے شرع کا کیا حکم ہے۔
جواب
قرآن کریم کی بے ادبی کرنا سخت ترین گناہ ہے، اس سے ایمان جاتا رہتا ہے جب اس نے اپنی بیوی کو یہ کہا کہ مجھ کو تیرے سے کوئی کام نہیں ہے تو اپنے ماں باپ کے یہاں چلی جا تو اس سے طلاق کی نیت کی یا نہیں، اگر طلاق کی نیت سے یہ کہا تب تو طلاق واقع ہوگئی اور بعد عدت عورت کو نکاح ثانی درست ہے، اگر طلاق کی نیت نہیں کی تو طلاق نہیں ہوئی، اب عورت کو چاہئے کہ حاکم مسلم با اختیار کی عدالت میں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔