تو میری بیوی ہونے کے لائق نہیں، اب میرا تیرا کوئی واسطہ نہیں کا حکم
سوال
زید نے اپنی بیوی حمیدہ خاتون پر خانگی نزاعات کے زیر بحث چند ایسے فقرے استعمال کئے جس سے طلاق کا احتمال ہے، مثلاً زید نے کہا کہ میں تجھے رکھنا نہیں چاہتا، تو میری بیوی ہونے کے لائق نہیں، تو اپنے میکہ چلی جا، اب میرا تیرا کوئی واسطہ نہیں، یا مجھے تم سے کوئی واسطہ نہیں، بر وقت حمیدہ باپ کے گھر ہے، اور اپنے کو مطلقہ تصور کر رہی ہے، اب زید اپنے کہے ہوئے الفاظ واپس لے رہا ہے کہ میں نے ایسے الفاظ استعمال نہیں کیا ہے کہ جس سے حمیدہ اپنے آپکو مطلقہ تصور کر رہی ہے گو کہ مجمع عام میں مندرجہ الفاظ زید نے کہے ہیں جس کے شاہد…
جواب
زید کے نقل کردہ جملوں میں صریح طلاق کا کوئی ذکر نہیں ہے، البتہ طلاق کنائی کے الفاظ ضرور ہیں، مگر وہ ایسے ہیں کہ اس سے طلاق واقع ہونے کا مدار زید کی نیت پر ہے، اگر زید نے بہ نیت طلاق یہ الفاظ کہے ہیں تو اس سے طلاق بائن واقع ہوگی جس کا حکم یہ ہے کہ شوہر کو رجعت کا حق نہیں رہا لیکن طرفین کی رضا مندی سے دوبارہ نکاح درست ہے اگر بیوی رضا مند نہ ہو تو بعد عدت اس کو دوسری جگہ نکاح کا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔