”جہاں چاہے بھیج دو سے طلاق
سوال
ایک لڑکی کی شادی ہوئی، مگر بعد رخصتی کے اس کا خاوند لڑکی کو لے کر سسرال گیا اور رہنے لگا، چند دن بطور مہمان کے رکھا، مگر جب عرصہ کئی ماہ کا گزر گیا تو لڑکی کے والدین نے کہا کہ بھائی یوں بیکار پڑنے سے کیا ہوتا ہے، کچھ کرنا بھی چاہئے، آخر خرچ کرنے کو کہاں سے آئے، لڑکے نے جواب دیا کہ اگر تم ہمارا دونوں کا خرچ برداشت کر سکتے ہو تو ٹھیک ہے، ورنہ تمہیں اختیار ہے، میں تو تمہاری لڑکی کو جب ہی رکھ سکتا ہوں جب کہ تم ہم دونوں کا خرچ برداشت کرو، لہذا وہ یہ سن کر چپ ہو گئے، اس لئے کہ شاید کچھ سمجھ میں آجائے، یہاں تک کہ چار سال…
جواب
اگر شوہر نے یہ الفاظ طلاق کی نیت سے کہے ہیں تو ایک طلاق بائن واقع ہو گئی جس کا حکم یہ ہے کہ طرفین کی رضامندی سے دوبارہ نکاح کی اجازت ہے، خواہ عدت میں کریں یا بعد عدت کے حلالہ کی ضرورت نہیں، اگر لڑکی رضا مند نہ ہو تو وہ بعد عدت دوسری جگہ اپنا نکاح کر سکتی ہے۔ تنبيه: - نیت کے بارے میں شوہر کا قول معتبر ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔