الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوی کو ایک دو تین کہنا

سوال

زید نے اپنی زوجہ ہندہ سے کچھ ان بن ہونے پر اس کی مار پیٹ کی، بعد یہ کہا کہ ایک دو تین، اس کے کچھ دیر بعد زید اپنی ماں سے کہنے لگا کہ اس کو اس کے میکہ پہنچا دو، اس کی ماں نے کہا کہ اچھا کل پہنچادوں گی، اس واقعہ کے تین روز گذرنے کے بعد ہندہ کا والد کسی ضرورت سے ہندہ کے گاؤں میں پہنچا تو اس کو وہاں کسی آدمی کی زبانی یہ بات معلوم ہوئی ہندہ کے والد نے زید کو تخلیہ میں بلا کر گفتگو کی اور پوچھا کہ تم نے ہندہ کو طلاق دیدی، تو زید خاموش ہو گیا، پھر اصرار کر نے پر زید نے ”ہاں“ کہا، بات کلیر ہے، تو اب حکم شرع کیا ہے؟

جواب

لفظ ایک دو تین اصالۃً طلاق کیلئے موضوع نہیں بلکہ گنتی کیلئے موضوع ہے، جس سے طلاق کی گنتی بھی مراد لی جاتی ہے اور غیر طلاق کی بھی اور عامۂ تو اس کا معدود بھی ذکر کیا جاتا ہے، اور کبھی امید کبھی قرینہ مقام کے لحاظ سے صرف ذکر عدد پر کفایت کی جاتی ہے، معدود کو مخاطب بغیر ذکر کئے سمجھ جاتا ہے، اور کبھی یہ کسی کام کو پختہ کرنے اور انتہا تک پہنچانے کیلئے بھی بولا جاتا ہے، مثلاً نیلام…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو