الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لفظ طلاق، طلاق، طلاق کا حکم

سوال

ایک بیوہ کا عقد نکاح ان لوگوں نے جو عرصہ دراز سے اس بیوہ کے کھلانے پلانے کے ذمہ دار تھے، ایک شخص کیساتھ اسکے باپ یعنی مسماۃ بیوہ کے خسر کی بغیر رضا مندی کر دیا تھا، جس کو ہفتہ عشرہ گزر گیا، بیوہ کا خسر مذکور اسی روز سے ناخوش رہا اور اسکے لڑکے ودیگر لوگ اسکو راضی کرنے کی کوشش کرتے رہے، اسپر باپ بیٹوں میں جھگڑا ہوتا رہا، ایک روز لڑ کے اپنے باپ کو راضی کرنے کی کوشش کر رہے تھے، کہ مسماۃ بیوہ کا شوہر بھی وہاں پہنچ گیا اور اسنے اپنی زوجہ کے خسر کو رنجیدہ دیکھ کر اس کو دھمکانے کے خیال سے یوں کہا اگر تم راضی نہیں ہوتے تو…

جواب

صورت مسئولہ میں شرعاً طلاق مغلظہ واقع ہوگئی اب بغیر حلالہ کے نکاح درست نہیں حلالہ کی صورت یہ ہے کہ مسماۃ مذکورہ عدت گزار کر با قاعدہ نکاح کرے اور وہ شخص صحبت کرے پھر بقضاء الہی مر جائے، یا طلاق دیدے تو پھر بعد عدت دوبارہ نکاح درست ہو گا اس سے پہلے درست نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو