ایک دو تین سے طلاق
سوال
ایک شخص اپنی بیوی کو لینے کے لئے اپنی سسرال میں گیا اور جا کر بیوی کو لے جانے کا تقاضا کیا لڑکی کے والدین نے کہا کہ شعبان کا چاند دیکھتے ہی فورا لے جانا بہت جدوجہد ہوئی، شوہر مذکور نے کہا کہ اس وقت لے جاؤں گا ورنہ میں کچھ اور کہہ دوں گا، خسر نے کہا کہ کیا کہے گا کہہ دے، شوہر مذکور نے فوراً کہا ایک دو تین نہ جانے طلاق دی، فوراً اپنا تھیلا اور بکس طلب کر کے چلا گیا، تو ایسے لفظوں سے طلاق پڑ جاتی ہے، یا نہیں؟ جو کچھ احادیث وغیرہ سے ثابت ہے، تحریر فرمائیں نوازش ہوگی۔ بینوا وتوجروا۔
جواب
ایک دو تین سے بھی اگر طلاق ہی مراد ہے، تو طلاق مغلظہ ہوگئی، بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، اگر یہ مراد نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ فوراً ابھی بغیر کسی انتظار یا تاخیر کے میں نے طلاق دی تو ایک طلاق رجعی واقع ہوئی، اس کا حکم یہ ہے کہ عدت (تین ماہواری)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔