الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق، طلاق، طلاق کا حکم

سوال

زید وعمر سالے بہنوئی ہیں، دونوں کے درمیان خانگی معاملہ میں جھگڑا ہوتا رہا، زید کو بے حد غصہ آگیا جو جنون کی حد سے گزر گیا، یہاں تک کہ اچھے برے کی تمیز باقی نہ رہی اور زید نے کہا، تو پھر اچھا طلاق طلاق طلاق، زید نے نہ اپنی بیوی کو مخاطب کیا نہ بیوی کا نام لے کر کہا اور نہ دیا کا لفظ کہا نہ دی کا لفظ کہا، پس طلاق تین بار کہا، زید کی بیوی عمر کی دور کے رشتہ کی بھانجی ہوتی ہے، مطلع فرمائیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟

جواب

یہ صحیح ہے، کہ شوہر نے نہ بیوی کو مخاطب کیا نہ بیوی کا نام لے کر کہا اور نہ دیا کا لفظ کہا نہ دی کا لفظ کہا، بس طلاق تین مرتبہ کہا ہے لیکن طلاق اپنی بیوی ہی کو دی جاتی ہے، کسی غیر کو نہیں اور یہاں تو بیوی کا تذکرہ بھی ہے اور اس کی برائی سن کر اس سے متاثر ہو کر طلاق دی ہے، طلاق کیلئے نہ دیا کی ضرورت نہ دی کی، نہ بیوی کو خطاب کی نہ اس کا نام لینے کی، بغیر ان سب باتوں کے بھی آدمی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو