الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مطلق طلاق دے کر تین طلاق کا اقرار مع فتویٰ امارت شرعیہ بہار

سوال

زید نے اپنی بیوی زبیدہ سے کہا کہ میں نے تجھے طلاق دیا، ساتھ ہی دل میں یہ خیال بھی تھا کہ اب اس کو قطعی نہ رکھوں گا، بر وقت زید کے دوست پہنچے، انہوں نے صورت حال دریافت کی تو چونکہ زید کی نیت اس کو نہ رکھنے کی تھی، اس لئے اس نے کہا کہ میں نے اس کو تین طلاق دیدی ہے، اب اس سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں ہے، زید نے اپنی بیوی زبیدہ سے ایک ہی دفعہ زبان سے یہ کہا تھا کہ میں نے تجھے طلاق دیا، یہ نہیں کہا تھا کہ میں نے تجھے تین طلاق دیا، یا طلاق دیا دیا دیا، ایسی صورت میں کون سی طلاق ہوئی؟ کیا بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح درست ہے؟

جواب

جواب منجانب امارت شرعیہ بہار صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی زید نے اپنی بیوی کو ایک ہی طلاق دی تھی، اور تین طلاق کا اقرار اس نے جھوٹا کر لیا ہے تو دیانۃً اس کی بیوی پر ایک ہی طلاق واقع ہوئی، اس کو حق ہے کہ طلاق کے بعد زبیدہ کی تین ماہواری پورا ہونے سے پہلے رجعت کر لے، اور اگر عدت گزر جائے تو زبیدہ کو رضا مندی سے نکاح جدید جائز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو