طلاق دی نہیں، دیدی، دیدی اھ سے طلاق
سوال
ایک لڑکے نے اپنی بیوی کو غصے کی حالت میں یہ لفظ کہد یا طلاق دی نہیں دیدی، دیدی، تین چار مرتبہ کہہ دیا ہے، جس وقت یہ لفظ لڑکے نے کہا تھا اس کی بیوی گھر پر نہیں تھی، بیوی قریب آٹھ ماہ کی حاملہ ہے، اب وہ اور اس کی بیوی جدا ہونا نہیں چاہتے آپ حکم شرع سے مطلع فرمائیں کہ کیا اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی؟ اور اگر ہوگی تو کون سی؟ کیا بغیر حلالہ کے نکاح جائز ہوگا؟
جواب
جب اس نے غصہ میں اپنی بیوی کو کہا کہ طلاق تو یہ ہلکا لفظ تھا، جس میں رجعت کا حق حاصل تھا، اس ہلکے پن کو ختم کرنے اور حق رجعت کو ختم کرنے کیلئے اس نے کہا نہیں دیدی دیدی، تین چار مرتبہ اسی طرح کہدیا جس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک نہیں بلکہ تین اور رجعی نہیں بلکہ مغلظ دیدی، اب نہ حق رجعت رہا نہ بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح کی اجازت رہی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔