الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تین طلاق بلانیت

سوال

زید نے اپنی بیوی کو غصہ میں کسی بات پر یہ الفاظ کہے۔ آپ نے میری وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی میں تم کو طلاق دیتا ہوں، اور آئندہ بھی دو ایک ماہ جو تکلیف ہوگی اس کو تم گوارہ نہیں کر سکتی میں نے تم کو طلاق دی آزاد کیا زید کہتا ہے: میری نیت دو طلاقوں کی نہ تھی، اور نہ بیوی سے میری کوئی ناراضگی تھی، مہربانی فرما کر اس کا جواب حوالہ جات حدیث وفقہ سے صاف صاف دیجئے گا، اس صورت میں دو طلاقیں ہوئیں، یا نہیں۔ بینوا وتوجروا۔

جواب

صورت مسئولہ میں زید نے تین الفاظ زبان سے ادا کئے ہیں، اول ”میں تم کو طلاق دیتا ہوں“ یہ صیغہ حال ہے اور صیغہ حال سے طلاق واقع ہو جاتی ہے: قالت لزوجها من با تو نمی باشم فقال الزوج مباش فقالت طلاق بدست تو است مرا طلاق کن فقال الزوج طلاق میکنم طلاق میکنم وكرر ثلاثاً طلقت ثلاثا بخلاف قوله کنم لانه استقبال فلم يكن تحقيقاً بالتشكيك وفي المحيط لو قال بالعربية اطلق لا يكون طلاقاً الا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو