تین طلاق کو ایک تصور کرنا
سوال
زید کے پاس ایک تحریر لائی گئی جس میں طلاق نامہ لکھا تھا، زید نے طلاق نامہ کی اس عبارت (اپنے تن پر حرام کیا، حرام کیا حرام کیا) تھوڑے وقفہ کے بعد پڑھ کر دستخط کر دیئے، مگر اسکے معنی اور انجام سے قطعاً نا واقف تھا، زید ذی عزت آدمی ہے، موجودہ صورت میں اسے جانی خطرہ ہے، عورت کو جدا کر دینے میں اسے ایک ایسی مصیبت کے درپیش ہونے کا یقین رہ ہے عورت عال کردینے میں اسے ایک ایسی کے در ہونے کا۔
جواب
اجماع امت کے خلاف کرنا قطعاً حرام ہے، اگر زید مقلد ہے، تو اس کو اپنے امام کے خلاف کرنا درست نہیں، اگر وہ خود مجتہد ہے کہ احادیث سے مسائل کا استنباط کر سکتا ہے، تو اس کو کسی مقلد سے دریافت کرنے کی کیا ضرورت ہے، چونکہ سائل نے نفس مسئلہ کا حکم دریافت نہیں کیا، کہ اس صورت میں طلاق مغلظہ واقع ہوئی ہے یا نہیں بلکہ اس کو اپنے ذہن میں طلاق مغلظہ قرار دے کر (جس کی ذمہ داری خود سائل پر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔